علی گڑھ لٹریچر فیسٹیول: علم، ادب اور ثقافت کے فروغ کی نئی پہل

علی گڑھ, 6 جولائی (محمد کامران) علی گڑھ لٹریچر فیسٹیول کا پہلا ایڈیشن دسمبر 2026 میں منعقد کیا جائے گا۔ اس ادبی و ثقافتی میلے کا مقصد ادب، فنون، ثقافت، تخلیقی اظہار اور فکری تبادلے کے لیے ایک عالمی پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے، جہاں مختلف زبانوں، تہذیبوں اور نظریات سے وابستہ اہلِ علم و ادب ایک دوسرے کے تجربات اور خیالات سے استفادہ کر سکیں۔

فیسٹیول کا باضابطہ اعلان انڈیا انٹرنیشنل سینٹر، نئی دہلی میں منعقدہ تقریب میں کیا گیا، جس میں آسام و ناگالینڈ کے سابق گورنر پروفیسر جگدیش مکھی، سینٹر فار نمو اسٹڈیز کے چیئرمین پروفیسر جسیم محمد، پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس جسٹس اقبال احمد انصاری، سوامی دیویندر برہماچاری، وزارتِ داخلہ کی راج بھاشا سمیتی کی رکن مایا کلشریشٹھا، معروف صحافی جاوید رحمانی، پروفیسر دیویا تنور سمیت متعدد ممتاز دانشوروں، ماہرینِ تعلیم اور ثقافتی شخصیات نے شرکت کی۔

منتظمین کے مطابق علی گڑھ اپنی علمی، ادبی اور فکری روایات کے باعث ملک بھر میں منفرد شناخت رکھتا ہے۔ یہ شہر نسلوں سے علماء، ادیبوں، شاعروں، مفکرین اور سماجی مصلحین کی آماجگاہ رہا ہے، جنہوں نے ہندوستان کی فکری اور سماجی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اسی تاریخی ورثے کو آگے بڑھاتے ہوئے علی گڑھ لٹریچر فیسٹیول کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

فیسٹیول میں فلم ساز مہیش بھٹ، رکنِ پارلیمنٹ کنگنا رناوت، معروف شاعر وسیم بریلوی، ممتاز شاعر و نقاد اشوک واجپئی، معروف شاعر و نغمہ نگار جاوید اختر، سابق آئی پی ایس افسر کرن بیدی، پدم شری آنند کمار، ڈاکٹر اپرنا سنگھ، صحافی انیل مہیشوری، پروفیسر رحمان مصور سمیت ملک کی ممتاز ادبی، ثقافتی، تعلیمی اور فکری شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔

سابق گورنر پروفیسر جگدیش مکھی نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ علی گڑھ لٹریچر فیسٹیول ادب، ثقافت، مکالمے اور باہمی ہم آہنگی کے فروغ کی سمت ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔

فیسٹیول کے بانی پروفیسر جسیم محمد نے کہا کہ علی گڑھ لٹریچر فیسٹیول کو خیالات، کہانیوں، تخلیقی صلاحیتوں اور انسانی رشتوں کے جشن کے طور پر تصور کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادب میں سرحدوں، زبانوں اور ثقافتوں سے بالاتر ہو کر انسانوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی غیر معمولی طاقت موجود ہے۔ ان کے مطابق یہ فیسٹیول مختلف نظریات اور تہذیبوں کے درمیان مثبت مکالمے کو فروغ دینے کے ساتھ نئی نسل کو علم، ادب اور ثقافت سے جوڑنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button